کلامِ داغردیف ے
ایک طوفاں ہے غم عشق میں رونا کیا ہے
۱
ایک طوفاں ہے غم عشق میں رونا کیا ہےنہیں معلوم کہ انجام کو ہونا کیا ہے
۲
دیکھ کر سانولی صورت تری یوسف بھی کہےچٹپٹا حسن نمک دار سلونا کیا ہے
۳
چار باتیں بھی کبھی آپ نے گھل مل کے نہ کیںانہیں باتوں کا ہے رونا مجھے رونا کیا ہے
۴
کاش مل جائے ترا سایۂ دیوار ہمیںاوڑھنا کیا ہے فقیروں کا بچھونا کیا ہے
۵
اس کی ٹھوکر سے بھی کم بخت نہ جاگا افسوسموت ہے داغؔ سیہ مست کا سونا کیا ہے
۱۳۷ / ۱۷۹