کلامِ داغردیف ے

آئے بھی تو وہ منہ کو چھپائے مرے آگے

۱

آئے بھی تو وہ منہ کو چھپائے مرے آگےاس طرح سے آئے کہ نہ آئے مرے آگے

۲

بجھتے ہوئے دیکھوں گا نہ میں دل کی لگی کوکوئی نہ کبھی شمع بجھائے مرے آگے

۳

تیور یہی کہتے تھے کہ یہ نام ہے میرالکھ کر کئی حرف اس نے مٹائے مرے آگے

۴

بچھڑے ہوئے معشوق ملیں سب کو الٰہیتنہا کوئی جنت میں نہ جائے مرے آگے

۵

کچھ داغؔ کا مذکور جو آیا تو وہ بولےآئے تھے برا حال بنائے مرے آگے

۱۳۸ / ۱۷۹