کلامِ داغردیف ے
دل پریشان ہوا جاتا ہے
۱
دل پریشان ہوا جاتا ہےاور سامان ہوا جاتا ہے
۲
خدمت پیر مغاں کر زاہدتو اب انسان ہوا جاتا ہے
۳
موت سے پہلے مجھے قتل کرواس کا احسان ہوا جاتا ہے
۴
لذت عشق الٰہی مٹ جائےدرد ارمان ہوا جاتا ہے
۵
دم ذرا لو کہ مرا دم تم پرابھی قربان ہوا جاتا ہے
۶
گریہ کیا ضبط کروں اے ناصحاشک پیمان ہوا جاتا ہے
۷
بے وفائی سے بھی رفتہ رفتہوہ مری جان ہوا جاتا ہے
۸
عرصۂ حشر میں وہ آ پہنچےصاف میدان ہوا جاتا ہے
۹
مدد اے ہمت دشوارپسندکام آسان ہوا جاتا ہے
۱۰
چھائی جاتی ہے یہ وحشت کیسیگھر بیابان ہوا جاتا ہے
۱۱
شکوہ سن آنکھ ملا کر ظالمکیوں پشیمان ہوا جاتا ہے
۱۲
آتش شوق بجھی جاتی ہےخاک ارمان ہوا جاتا ہے
۱۳
عذر جانے میں نہ کر اے قاصدتو بھی نادان ہوا جاتا ہے
۱۴
مضطرب کیوں نہ ہوں ارماں دل میںقید مہمان ہوا جاتا ہے
۱۵
داغؔ خاموش نہ لگ جائے نظرشعر دیوان ہوا جاتا ہے
۱۴۴ / ۱۷۹