کلامِ داغردیف ے
دل کو کیا ہو گیا خدا جانے
۱
دل کو کیا ہو گیا خدا جانےکیوں ہے ایسا اداس کیا جانے
۲
اپنے غم میں بھی اس کو صرفہ ہےنہ کھلا جانے وہ نہ کھا جانے
۳
اس تجاہل کا کیا ٹھکانا ہےجان کر جو نہ مدعا جانے
۴
کہہ دیا میں نے راز دل اپنااس کو تم جانو یا خدا جانے
۵
کیا غرض کیوں ادھر توجہ ہوحال دل آپ کی بلا جانے
۶
جانتے جانتے ہی جانے گامجھ میں کیا ہے ابھی وہ کیا جانے
۷
کیا ہم اس بد گماں سے بات کریںجو ستائش کو بھی گلہ جانے
۸
تم نہ پاؤ گے سادہ دل مجھ ساجو تغافل کو بھی حیا جانے
۹
ہے عبث جرم عشق پر الزامجب خطاوار بھی خطا جانے
۱۰
نہیں کوتاہ دامن امیدآگے اب دست نارسا جانے
۱۱
جو ہو اچھا ہزار اچھوں کاواعظ اس بت کو تو برا جانے
۱۲
کی مری قدر مثل شاہ دکنکسی نواب نے نہ راجا نے
۱۳
اس سے اٹھے گی کیا مصیبت عشقابتدا کو جو انتہا جانے
۱۴
داغؔ سے کہہ دو اب نہ گھبراؤکام اپنا بتا ہوا جانے
۱۴۵ / ۱۷۹