کلامِ داغردیف ے

دل چرا کر نظر چرائی ہے

۱

دل چرا کر نظر چرائی ہےلٹ گئے لٹ گئے دہائی ہے

۲

ایک دن مل کے پھر نہیں ملتےکس قیامت کی یہ جدائی ہے

۳

اے اثر کر نہ انتظار دعامانگنا سخت بے حیائی ہے

۴

میں یہاں ہوں وہاں ہے دل میرانارسائی عجب رسائی ہے

۵

اس طرح اہل ناز ناز کریںبندگی ہے کہ یہ خدائی ہے

۶

پانی پی پی کے توبہ کرتا ہوںپارسائی سی پارسائی ہے

۷

وعدہ کرنے کا اختیار رہابات کرنے میں کیا برائی ہے

۸

کب نکلتا ہے اب جگر سے تیریہ بھی کیا تیری آشنائی ہے

۹

داغؔ ان سے دماغ کرتے ہیںنہیں معلوم کیا سمائی ہے

۱۴۶ / ۱۷۹