کلامِ داغردیف ے
سبق ایسا پڑھا دیا تو نے
سبق ایسا پڑھا دیا تو نےدل سے سب کچھ بھلا دیا تو نے
ہم نکمے ہوئے زمانے کےکام ایسا سکھا دیا تو نے
کچھ تعلق رہا نہ دنیا سےشغل ایسا بتا دیا تو نے
کس خوشی کی خبر سنا کے مجھےغم کا پتلا بنا دیا تو نے
کیا بتاؤں کہ کیا لیا میں نےکیا کہوں میں کی کیا دیا تو نے
بے طلب جو ملا ملا مجھ کوبے غرض جو دیا دیا تو نے
عمر جاوید خضر کو بخشیآب حیواں پلا دیا تو نے
نار نمرود کو کیا گلزاردوست کو یوں بچا دیا تو نے
دست موسیٰ میں فیض بخشش ہےنور و لوح و عصا دیا تو نے
صبح موج نسیم گلشن کونفس جاں فزا دیا تو نے
شب تیرہ میں شمع روشن کونور خورشید کا دیا تو نے
نغمہ بلبل کو رنگ و بو گل کودلکش و خوش نما دیا تو نے
کہیں مشتاق سے حجاب ہواکہیں پردہ اٹھا دیا تو نے
تھا مرا منہ نہ قابل لبیککعبہ مجھ کو دکھا دیا تو نے
جس قدر میں نے تجھ سے خواہش کیاس سے مجھ کو سوا دیا تو نے
رہبر خضر و ہادی الیاسمجھ کو وہ رہنما دیا تو نے
مٹ گئے دل سے نقش باطل سبنقشہ اپنا جما دیا تو نے
ہے یہی راہ منزل مقصودخوب رستے لگا دیا تو نے
مجھ گنہ گار کو جو بخش دیاتو جہنم کو کیا دیا تو نے
داغؔ کو کون دینے والا تھاجو دیا اے خدا دیا تو نے
۱۴۷ / ۱۷۹