کلامِ داغردیف ے

شکوہ نہیں کسی کی ملاقات کا مجھے

۱

شکوہ نہیں کسی کی ملاقات کا مجھےتم جانتے ہو وہم ہے جس بات کا مجھے

۲

جانا کہ بوئے غیر یہ پہچان جائے گاباسی نہ اس نے ہار دیا رات کا مجھے

۳

مل کر تمام بھید کہوں گا رقیب سےآتا ہے خوب توڑ تری گھات کا مجھے

۴

ڈرنا کسی کا اور وہ بجلی کا کوندناموسم بہت پسند ہے برسات کا مجھے

۵

آخر وہاں رقیب نے نقشہ جما لیااے داغؔ خوف تھا اسی بد ذات کا مجھے

۱۴۸ / ۱۷۹