کلامِ داغردیف ے

سودا ہے جو دل دے کے خریدار سے الجھے

۱

سودا ہے جو دل دے کے خریدار سے الجھےسلجھے ہوئے ہم سے نہ کبھی یار سے الجھے

۲

ہونے نہ دیا رشک نے اظہار تمناہر بات میں ہم اپنی ہی گفتار سے الجھے

۳

الجھاؤ سے الجھاؤ ہیں اس عشق میں یا ربدلدار سے اٹکے تھے کہ اغیار سے الجھے

۴

کیا سیر ہو شانے سے لڑے گر دل صد چاکایک ایک گرفتار گرفتار سے الجھے

۵

اٹکے تو کسی چشم فسوں ساز سے اٹکےالجھے تو کسی طرۂ طرار سے الجھے

۶

چوری سے بھی پہنچے نہ ترے گھر میں کبھی ہمبرسوں یوں ہی خار سر دیوار سے الجھے

۷

کھلتے نہیں تم داغؔ الجھتی ہے طبیعتاچھے کسی عیار سے مکار سے الجھے

۱۴۹ / ۱۷۹