کلامِ داغردیف ے
شمع روشن ہے ہماری آہ سے
۱
شمع روشن ہے ہماری آہ سےلو لگائے بیٹھے ہیں اللہ سے
۲
چلتے ہیں کیا کیا وہ رستہ کاٹ کرجب گزرتے ہیں ہماری راہ سے
۳
کیوں نہ رکھوں میں تبرک کی طرحغم ملا ہے عشق کی درگاہ سے
۴
ایک بوسہ پر ہمیں ٹالیں نہ آپکچھ علاوہ دیجئے تنخواہ سے
۵
مانگ کر تجھ کو بہت نادم ہوامانگنا تھا اور کچھ اللہ سے
۶
خوب صورت ہو کے تم لڑنے لگےبحث ہے دن رات مہر و ماہ سے
۷
تو نے واعظ زندگی دشوار کیکیوں کیا واقف خدا کی راہ سے
۱۵۰ / ۱۷۹