کلامِ داغردیف ے

غم اٹھانے کے واسطے دم ہے

۱

غم اٹھانے کے واسطے دم ہےزندگی ہے اگر تو کیا غم ہے

۲

کہتے ہو کچھ کہو کہوں کیا خاکجانتا ہوں مزاج برہم ہے

۳

گریہ بے اثر کی کچھ حد بھیہم ہیں اور آج چشم پر نم ہے

۴

کیا نئے دوستوں سے بگڑی آجدشمنوں کا کچھ اور عالم ہے

۵

مجھ کو دیکھا تو غیر سے یہ کہاعمر اس نوجوان کی کم ہے

۶

گر خوشی ہے تو وصل کی ہے خوشیغم اگر ہے تو ہجر کا غم ہے

۷

سنتے ہیں داغؔ کل وہ آئے تھےبارے اب تو سلوک باہم ہے

۱۵۱ / ۱۷۹