کلامِ داغردیف ے

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

۱

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہےرنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے

۲

جو زمانے کے ستم ہیں وہ زمانہ جانےتو نے دل اتنے ستائے ہیں کہ جی جانتا ہے

۳

تم نہیں جانتے اب تک یہ تمہارے اندازوہ مرے دل میں سمائے ہیں کہ جی جانتا ہے

۴

انہیں قدموں نے تمہارے انہیں قدموں کی قسمخاک میں اتنے ملائے ہیں کہ جی جانتا ہے

۵

دوستی میں تری در پردہ ہمارے دشمناس قدر اپنے پرائے ہیں کہ جی جانتا ہے

۱۶۲ / ۱۷۹