کلامِ داغردیف ے

ناروا کہیے ناسزا کہیے

۱

ناروا کہیے ناسزا کہیےکہیے کہیے مجھے برا کہیے

۲

پھر نہ رکئے جو مدعا کہیےایک کے بعد دوسرا کہیے

۳

آپ اب میرا منہ نہ کھلوائیںیہ نہ کہیے کہ مدعا کہیے

۴

وہ بھی سن لیں گے یہ کبھی نہ کبھیحال دل سب سے جا بجا کہیے

۵

مجھ کو کہیے برا نہ غیر کے ساتھجو ہو کہنا جدا جدا کہیے

۶

ہاتھ رکھ کر وہ اپنے کانوں پرمجھ سے کہتے ہیں ماجرا کہیے

۷

ہوش جاتے رہے رقیبوں کےداغؔ کو اور با وفا کہیے

۱۶۳ / ۱۷۹