کلامِ داغردیف ے

وہ جو بولیں تو بات جاتی ہے

۱

وہ جو بولیں تو بات جاتی ہےچپ رہوں میں تو رات جاتی ہے

۲

ساتھ حوروں کے ہے شہید تراکیا عدم کو برات جاتی ہے

۳

مے کے پینے سے کر تو لوں توبہآرزوئے نجات جاتی ہے

۴

دل لگی کا مزہ جب آتا ہےہستی بے ثبات جاتی ہے

۵

خوب آتا ہے لطف آزادیجب یہ قید حیات جاتی ہے

۶

کیا کروں داغؔ وصل میں شکوہبات کہنے میں رات جاتی ہے

۱۶۴ / ۱۷۹