کلامِ داغردیف ے

مطلب کی تم سنو تو ذرا کوئی کچھ کہے

۱

مطلب کی تم سنو تو ذرا کوئی کچھ کہےجب بے سنے خفا ہو تو کیا کوئی کچھ کہے

۲

ہم آپ چھیڑ چھیڑ کے کھاتے ہیں گالیاںکانوں کو پڑ گیا ہے مزہ کوئی کچھ کہے

۳

بندے ہیں ہم تو عشق کے اے شیخ و برہمنپروا نہیں ہمیں بخدا کوئی کچھ کہے

۴

کم بخت نامراد تو مدت سے ہے خطابجی چاہتا ہے اس سے سوا کوئی کچھ کہے

۵

ناصح کہے سنے پہ ہمارا نہیں عملجو جی میں آ گیا وہ کیا کوئی کچھ کہے

۶

اے داغؔ اس کی بزم میں ہم گل کھلائیں گےاس کا ہے انتظار ذرا کوئی کچھ کہے

۱۶۵ / ۱۷۹