کلامِ داغردیف ے
قول تیرا شوق میرا چاہیئے
۱
قول تیرا شوق میرا چاہیئےجھوٹ سچ کے واسطے کیا چاہیئے
۲
ہو سکے کیا اپنی وحشت کا علاجتیرے کوچے میں بھی صحرا چاہیئے
۳
گو تری نظروں سے کل گر ہی پڑیںآج تو کوئی سہارا چاہیئے
۴
ہر طرف ہے تیرے بیماروں کا شورہر گلی میں اک مسیحا چاہیئے
۵
کیوں نہ چھائے مے کشوں کے سر پر ابرکچھ گنہ گاروں کا پردہ چاہیئے
۶
کاش دے کر کچھ گرہ سے ہو نجاتتجھ کو زاہد دین و دنیا چاہیئے
۷
کیوں نہیں دیتے تسلی داغؔ کواس سے لیجے گر تمنا چاہیئے
۱۶۶ / ۱۷۹