کلامِ داغردیف ے

میرے رونے پر جو رویا آدمی فہمیدہ ہے

۱

میرے رونے پر جو رویا آدمی فہمیدہ ہےناصح عاقل پرانا گرگ باراں دیدہ ہے

۲

میں بھی تو دیکھوں نکلتا ہے یہ تنکا کس طرحچارہ گر کی آنکھ میں میرا تن کاہیدہ ہے

۳

تو نے رکھا ہے رقیب ترش رو کے دل پہ ہاتھآج کیوں پھیکا ترا دست حنا مالیدہ ہے

۴

خاک میں اس نے ملایا مجھ کو یا میں نے اسےآج میں ہوں اور یہ میرا دل تفتیدہ ہے

۵

زہر کھا کر مل گئے ہیں خاک میں عاشق بہتانگلیاں ہیں دیکھ تو یا سبزۂ روئیدہ ہے

۶

خوب آتا ہے لگا لینا نگاہ یار کوایک سے ان بن ہوئی تو دوسرا گرویدہ ہے

۷

بہر نظارہ چلا ہے کوچۂ قاتل میں داغؔکس بلی کا ہے کلیجہ کس غضب کا دیدہ ہے

۱۶۷ / ۱۷۹