کلامِ داغردیف ے

یہ بات بات میں کیا نازکی نکلتی ہے

۱

یہ بات بات میں کیا نازکی نکلتی ہےدبی دبی ترے لب سے ہنسی نکلتی ہے

۲

ٹھہر ٹھہر کے جلا دل کو ایک بار نہ پھونککہ اس میں بوئے محبت ابھی نکلتی ہے

۳

بجائے شکوہ بھی دیتا ہوں میں دعا اس کومری زباں سے کروں کیا یہی نکلتی ہے

۴

خوشی میں ہم نے یہ شوخی کبھی نہیں دیکھیدم عتاب جو رنگت تری نکلتی ہے

۵

ہزار بار جو مانگا کرو تو کیا حاصلدعا وہی ہے جو دل سے کبھی نکلتی ہے

۶

ادا سے تیری مگر کھنچ رہیں ہیں تلواریںنگہ نگہ سے چھری پر چھری نکلتی ہے

۷

محیط عشق میں ہے کیا امید و بیم مجھےکہ ڈوب ڈوب کے کشتی مری نکلتی ہے

۸

جھلک رہی ہے سر شاخ مژہ خون کی بوندشجر میں پہلے ثمر سے کلی نکلتی ہے

۹

شب فراق جو کھولے ہیں ہم نے زخم جگریہ انتظار ہے کب چاندنی نکلتی ہے

۱۰

سمجھ تو لیجئے کہنے تو دیجئے مطلببیاں سے پہلے ہی مجھ پر چھری نکلتی ہے

۱۱

یہ دل کی آگ ہے یا دل کے نور کا ہے ظہورنفس نفس میں مرے روشنی نکلتی ہے

۱۲

کہا جو میں نے کہ مر جاؤں گا تو کہتے ہیںہمارے زائچے میں زندگی نکلتی ہے

۱۳

سمجھنے والے سمجھتے ہیں پیچ کی تقریرکہ کچھ نہ کچھ تری باتوں میں فی نکلتی ہے

۱۴

دم اخیر تصور ہے کس پری وش کاکہ میری روح بھی بن کر پری نکلتی ہے

۱۵

صنم کدے میں بھی ہے حسن اک خدائی کاکہ جو نکلتی ہے صورت پری نکلتی ہے

۱۶

مرے نکالے نہ نکلے گی آرزو میریجو تم نکالنا چاہو ابھی نکلتی ہے

۱۷

غم فراق میں ہو داغؔ اس قدر بیتابذرا سے رنج میں جاں آپ کی نکلتی ہے

۱۶۸ / ۱۷۹