کلامِ داغردیف ے
کیا طرز کلام ہو گئی ہے
۱
کیا طرز کلام ہو گئی ہےہر بات پیام ہو گئی ہے
۲
کچھ زہر نہ تھی شراب انگورکیا چیز حرام ہو گئی ہے
۳
آگے تو نہیں نہیں سنی تھیاب تکیہ کلام ہو گئی ہے
۴
جاتے جاتے پیام بر کوہر صبح سے شام ہو گئی ہے
۵
اب دیکھیے مشق پائمالیتعریف خرام ہو گئی ہے
۶
پہنچے ہیں جب اس کی بزم میں ہممجلس ہی تمام ہو گئی ہے
۷
عالم کو ہے دعوی محبتیہ خاص بھی عام ہو گئی ہے
۸
اس بت کے ہمیں نہیں ہیں بندےمخلوق غلام ہو گئی ہے
۹
برباد نہ ہوگی تیری الفتتجویز مقام ہو گئی ہے
۱۰
جاگیر جنوں کی قیس کے بعداب داغؔ کے نام ہو گئی ہے
۱۶۹ / ۱۷۹