کلامِ داغردیف ے

کچھ لاگ کچھ لگاو محبت میں چاہئے

۱

کچھ لاگ کچھ لگاو محبت میں چاہئےدونوں طرح کا رنگ طبیعت میں چاہئے

۲

یہ کیا کہ بت بنے ہوئے بیٹھے ہو بزم میںکچھ بے تکلفی بھی تو خلوت میں چاہئے

۳

وہ ابتدائے عشق میں حاصل ہوئی مجھےجو بات انتہائے محبت میں چاہئے

۴

آئیں گے بے شمار فرشتے عذاب کےمیدان حشر غیر کی تربت میں چاہئے

۵

کچھ تو پڑے دباؤ دل بے قرار پرپارا بھرا ہوا مری تربت میں چاہئے

۶

معشوق کے کہے کا برا مانتے ہو داغؔبرداشت آدمی کی طبیعت میں چاہئے

۱۷۰ / ۱۷۹