کلامِ داغردیف ے

کھلتا نہیں ہے راز ہمارے بیان سے

۱

کھلتا نہیں ہے راز ہمارے بیان سےلیتے ہیں دل کا کام ہم اپنی زبان سے

۲

کیا لذت وصال ادا ہو بیان سےسب حرف چپکے جاتے ہیں میری زبان سے

۳

مشہور راز عشق ہے کس کے بیان سےمیری زبان سے کہ تمہاری زبان سے

۴

فتنہ بنا زمین پہ ہر ذرہ خاک کانکلے ہیں بہر سیر وہ جس دم مکان سے

۵

اس دن سے مجھ کو نیند نہ آئی تمام عمراک شب ملی تھی آنکھ ترے پاسبان سے

۶

یہ خاک میں ملائے تو وہ ہو ستم شریکمجھ کو زمیں سے لاگ انہیں آسمان سے

۷

لینا سنبھالنا کہ مرے ہوش اڑ چلےآتا ہے کوئی مست قیامت کی شان سے

۸

مجھ سے نظر ملا کے تم ابرو میں بل نہ دوسیدھا چلے گا تیر نہ ٹیڑھی کمان سے

۹

بازار عشق میں ہیں بہت دل جگہ جگہدیکھیں وہ مول لیتے ہیں کس کی دکان سے

۱۰

شوریدہ سر وہ ہوں کہ اسے سر سے توڑ دوںگر سنگ حادثہ بھی گرے آسمان سے

۱۱

ارزاں کرے فروخت اگر مے فروش عشقلینے لگیں فرشتے بھی اس کی دکان سے

۱۲

گزری ہے آزمائش مہر و وفا میں عمرفرصت مجھے ملی نہ کبھی امتحان سے

۱۳

دل بھی بچا جگر بھی بچا خیر ہو گئیتیر نگاہ پار ہوا درمیان سے

۱۴

میں تم کو ناگوار ہوں دل مجھ کو ناگوارتم مجھ سے تنگ اور ہوں میں تنگ جان سے

۱۵

ہاں ہاں ترا رقیب سے بے شک ہے ربط ضبطرتبہ یقین کا ہے زیادہ گمان سے

۱۶

مہر و وفا کا نام ہے اب بات بات پریہ سن لیا ہے آپ نے کس کی زبان سے

۱۷

کیسا کھلا ہے پھول جب آیا بہار پرپوچھے تو کوئی لطف جوانی جوان سے

۱۸

دانستہ آتے جاتوں سے لڑتا ہے رات دنپھر ہو پڑی تھی آج ترے پاسبان سے

۱۹

اس خوبرو کو بزم حسیناں میں دیکھیےکرتا ہے آن بان بڑی آن تان سے

۲۰

اے داغؔ اس کی خیر مناتا ہے آدمیکوئی عزیز بڑھ کے نہیں اپنی جان سے

۱۷۱ / ۱۷۹