کلامِ داغمثنویات، مراثی و دیگر
برسوں آنکھوں میں رہے آنکھوں سے پھر کر دل میں آئے
۱
برسوں آنکھوں میں رہے آنکھوں سے پھر کر دل میں آئےراہ سیدھی تھی مگر پہنچے بڑے چکر سے آپ
۲
کٹ گئے لاکھوں گلے اس تیزیٔ رفتار سےاب تو چل نکلے زیادہ اپنے بھی خنجر سے آپ
۳
اپنے سینہ سے دبا دیجے ذرا سینہ مراچور کیجے شیشہ دل کو اسی پتھر سے آپ
۴
حضرت زاہد نکل آیا فلک پر آفتابپیر و مرشد اب تو اٹھیے میکدے کے در سے آپ
۵
کیوں جناب داغؔ یاد اللہ میری یاد ہےبھیس بدلے رات کو آتے تھے کس کے گھر سے آپ
۱۷۷ / ۱۷۹