کلامِ داغردیف ی

آرزو ہے وفا کرے کوئی

۱

آرزو ہے وفا کرے کوئیجی نہ چاہے تو کیا کرے کوئی

۲

گر مرض ہو دوا کرے کوئیمرنے والے کا کیا کرے کوئی

۳

کوستے ہیں جلے ہوئے کیا کیااپنے حق میں دعا کرے کوئی

۴

ان سے سب اپنی اپنی کہتے ہیںمیرا مطلب ادا کرے کوئی

۵

چاہ سے آپ کو تو نفرت ہےمجھ کو چاہے خدا کرے کوئی

۶

اس گلے کو گلہ نہیں کہتےگر مزے کا گلا کرے کوئی

۷

یہ ملی داد رنج فرقت کیاور دل کا کہا کرے کوئی

۸

تم سراپا ہو صورت تصویرتم سے پھر بات کیا کرے کوئی

۹

کہتے ہیں ہم نہیں خدائے کریمکیوں ہماری خطا کرے کوئی

۱۰

جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوںایسی جنت کو کیا کرے کوئی

۱۱

اس جفا پر تمہیں تمنا ہےکہ مری التجا کرے کوئی

۱۲

منہ لگاتے ہی داغؔ اترایالطف ہے پھر جفا کرے کوئی

۱۱۵ / ۱۷۹