کلامِ داغردیف ی
شب وصل ضد میں بسر ہو گئی
شب وصل ضد میں بسر ہو گئینہیں ہوتے ہوتے سحر ہو گئی
نگہ غیر پر بے اثر ہو گئیتمہاری نظر کو نظر ہو گئی
کسک دل میں پھر چارہ گر ہو گئیجو تسکیں پہر دوپہر ہو گئی
لگاتے ہیں دل اس سے اب ہار جیتادھر ہو گئی یا ادھر ہو گئی
جواب ان کی جانب سے دینے لگایہ جرأت تجھے نامہ بر ہو گئی
برے حال سے یا بھلے حال سےتمہیں کیا ہماری بسر ہو گئی
میسر ہمیں خواب راحت کہاںذرا آنکھ جھپکی سحر ہو گئی
جفا پر وفا تو کروں سوچ لوتمہیں مجھ سے الفت اگر ہو گئی
نگاہ ستم میں کچھ ایجاد ہوکہ یہ تو پرانی نظر ہو گئی
تسلی مجھے دے کے جاتے تو ہومبادا جو جوع دگر ہو گئی
کہیں حسن سے بھی ہے کاہیدگینہ ہونے کے قابل کمر ہو گئی
شب وصل ایسی کھلی چاندنیوہ گھبرا کے بولے سحر ہو گئی
کہی زندگی بھر کی شب وارداتمری روح پیغام بر ہو گئی
کہو کیا کروگے مرے وصل کیجو مشہور جھوٹی خبر ہو گئی
غم ہجر سے داغؔ مجھ کو نجاتیقیں تھا نہ ہوگی مگر ہو گئی
۱۱۶ / ۱۷۹