کلامِ داغردیف ی
رنج کی جب گفتگو ہونے لگی
۱
رنج کی جب گفتگو ہونے لگیآپ سے تم تم سے تو ہونے لگی
۲
چاہیئے پیغام بر دونوں طرفلطف کیا جب دوبدو ہونے لگی
۳
میری رسوائی کی نوبت آ گئیان کی شہرت کو بہ کو ہونے لگی
۴
ہے تری تصویر کتنی بے حجابہر کسی کے رو بہ رو ہونے لگی
۵
غیر کے ہوتے بھلا اے شام وصلکیوں ہمارے رو بہ رو ہونے لگی
۶
ناامیدی بڑھ گئی ہے اس قدرآرزو کی آرزو ہونے لگی
۷
اب کے مل کر دیکھیے کیا رنگ ہوپھر ہماری جستجو ہونے لگی
۸
داغؔ اترائے ہوئے پھرتے ہیں آجشاید ان کی آبرو ہونے لگی
۱۱۷ / ۱۷۹