کلامِ داغردیف ی

دیکھ کر جوبن ترا کس کس کو حیرانی ہوئی

۱

دیکھ کر جوبن ترا کس کس کو حیرانی ہوئیاس جوانی پر جوانی آپ دیوانی ہوئی

۲

پردے پردے میں محبت دشمن جانی ہوئییہ خدا کی مار کیا اے شوق پنہانی ہوئی

۳

دل کا سودا کر کے ان سے کیا پشیمانی ہوئیقدر اس کی پھر کہاں جس شے کی ارزانی ہوئی

۴

میرے گھر اس شوخ کی دو دن سے مہمانی ہوئیبیکسی کی آج کل کیا خانہ ویرانی ہوئی

۵

ترک رسم و راہ پر افسوس ہے دونوں طرفہم سے نادانی ہوئی یا تم سے نادانی ہوئی

۶

ابتدا سے انتہا تک حال ان سے کہہ تو دوںفکر یہ ہے اور جو کہہ کر پشیمانی ہوئی

۷

غم قیامت کا نہیں واعظ مجھے یہ فکر ہےدین کب باقی رہا دنیا اگر فانی ہوئی

۸

تم نہ شب کو آؤ گے یہ ہے یقیں آیا ہواتم نہ مانو گے مری یہ بات ہے مانی ہوئی

۹

مجھ میں دم جب تک رہا مشکل میں تھے تیماردارمیری آسانی سے سب یاروں کی آسانی ہوئی

۱۰

اس کو کیا کہتے ہیں اتنا ہی بڑھا شوق وصالجس قدر مشہور ان کی پاک دامانی ہوئی

۱۱

بزم سے اٹھنے کی غیرت بیٹھنے سے دل کو رشکدیکھ کر غیروں کا مجمع کیا پریشانی ہوئی

۱۲

دعویٰ تسخیر پر یہ اس پری وش نے کہاآپ کا دل کیا ہوا مہر سلیمانی ہوئی

۱۳

کھل گئیں زلفیں مگر اس شوخ مست ناز کیجھومتی باد صبا پھرتی ہے مستانی ہوئی

۱۴

میں سراپا سجدے کرتا اس کے در پر شوق سےسر سے پا تک کیوں نہ پیشانی ہی پیشانی ہوئی

۱۵

دل کی قلب ماہیت کا ہو اسے کیونکر یقیںکب ہوا مٹی ہوئی ہے آگ کب پانی ہوئی

۱۶

آتے ہی کہتے ہو اب گھر جائیں گے اچھی کہییہ مثل پوری یہاں من مانی گھر جانی ہوئی

۱۷

عرصۂ محشر میں تجھ کو ڈھونڈ لاؤں تو سہیکوئی چھپ سکتی ہے جو صورت ہو پہچانی ہوئی

۱۸

دیکھ کر قاتل کا خالی ہاتھ بھی جی ڈر گیااس کی چین آستیں بھی چین پیشانی ہوئی

۱۹

کھا کے دھوکا اس بت کمسن نے دامن میں لیےاشک افشانی بھی میری گوہر افشانی ہوئی

۲۰

بیکسی پر میری اپنی تیغ کی حسرت تو دیکھچشم جوہر بھی بشکل چشم حیرانی ہوئی

۲۱

بیکسی پر داغؔ کی افسوس آتا ہے ہمیںکس جگہ کس وقت اس کی خانہ ویرانی ہوئی

۱۱۸ / ۱۷۹