کلامِ داغردیف ی
طبیعت کوئی دن میں بھر جائے گی
۱
طبیعت کوئی دن میں بھر جائے گیچڑھی ہے یہ آندھی اتر جائے گی
۲
رہیں گی دم مرگ تک خواہشیںیہ نیت کوئی آج بھر جائے گی
۳
رہے پیروی ہجر ہو یا وصالکہ اک بات آخر ٹھہر جائے گی
۴
محبت میں اے دل نہ ڈر سر پہ کھیلوہ بازی نہیں یہ کہ ہر جائے گی
۵
نہ گزری شب ہجر سمجھے تھے ہمتڑپتے پھڑکتے گزر جائے گی
۶
دیا دل تو اے داغؔ اندیشہ کیاگزرنی جو ہوگی گزر جائے گی
۱۱۹ / ۱۷۹