کلامِ داغردیف ی
سب سے تم اچھے ہو تم سے مری قسمت اچھی
۱
سب سے تم اچھے ہو تم سے مری قسمت اچھییہی کم بخت دکھا دیتی ہے صورت اچھی
۲
حسن معشوق سے بھی حسن سخن ہے کم یابایک ہوتی ہے ہزاروں میں طبیعت اچھی
۳
میری تصویر بھی دیکھی تو کہا شرما کریہ برا شخص ہے اس کی نہیں نیت اچھی
۴
کس صفائی سے کیا وصل کا تو نے انکاراس محل پر تو زباں میں تری لکنت اچھی
۵
جو ہو آغاز میں بہتر وہ خوشی ہے بد ترجس کا انجام ہو اچھا وہ مصیبت اچھی
۶
تم بتاؤ تو سہی مہر و محبت کے گواہایسے دعوے میں تو جھوٹی ہی شہادت اچھی
۷
زور و زر سے بھی کہیں داغؔ حسیں ملتے ہیںاپنے نزدیک تو ہے سب سے اطاعت اچھی
۱۲۰ / ۱۷۹