کلامِ داغردیف ی

طرز قدسی میں کبھی شیوۂ انساں میں کبھی

۱

طرز قدسی میں کبھی شیوۂ انساں میں کبھیہم بھی اک چیز تھے اس عالم امکاں میں کبھی

۲

رنج میں رنج کا راحت میں ہوں راحت کا شریکخاک ساحل میں کبھی موج ہوں طوفاں میں کبھی

۳

دل میں بے لطف رہی خار تمنا کی خلشنوک بن کر نہ رہا یہ کسی مژگاں میں کبھی

۴

وار کرتے ہی بھرا زخم میں قاتل نے نمکتیغ پر ہاتھ کبھی ہے تو نمکداں میں کبھی

۵

خضر سے میں نے جو کیں جوش جنوں کی باتیںایسے نکلے کہ نہ آئے تھے بیاباں میں کبھی

۶

اللہ اللہ رے تری شوخ بیانی اے داغؔسست اک شعر نہ دیکھا ترے دیواں میں کبھی

۱۲۱ / ۱۷۹