کلامِ داغردیف ی

ملتے ہی بے باک تھی وہ آنکھ شرمائی ہوئی

۱

ملتے ہی بے باک تھی وہ آنکھ شرمائی ہوئیپھر گئی پچھتا کے پلکوں تک حیا آئی ہوئی

۲

ہر ادا مستانہ سر سے پاؤں تک چھائی ہوئیاف تری کافر جوانی جوش پر آئی ہوئی

۳

مجھ کو یہ دعوی کوئی تیرے سوا دل میں نہیںاس کا یہ الزام اچھی قید تنہائی ہوئی

۴

بھولے بن کر ان کے منہ سے سن لیا حال رقیبعمر بھر میں ایک ہی تو ہم سے دانائی ہوئی

۵

بوسہ لے کر جان ڈالی غیر کی تصویر میںیہ نیا اعجاز یہ اچھی مسیحائی ہوئی

۶

دیکھ کر قاتل کی آمد داغؔ دل میں شاد شاداور غم خواروں کے منہ پر مردنی چھائی ہوئی

۱۲۲ / ۱۷۹