کلامِ داغردیف ت

ہے طرفہ تماشہ سر بازار محبت

۱

ہے طرفہ تماشہ سر بازار محبتسر بیچتے پھرتے ہیں خریدار محبت

۲

اللہ کرے تو بھی ہو بیمار محبتصدقہ میں چھٹیں تیرے گرفتار محبت

۳

اس واسطے دیتے ہیں وہ ہر روز نیا داغاک درد کے خوگر نہ ہوں بیمار محبت

۴

کچھ تذکرہ عشق رہے حضرت ناصحکانوں کو مزہ دیتی ہے گفتار محبت

۵

واعظ کی زباں پر تو وہ کلمہ ہے کہ گویابخشے ہی نہ جائیں گے گنہ گار محبت

۶

دیکھا ہے زمانے کو ان آنکھوں نے تو اے داغؔاس رنگ پر اس ڈھنگ پر انکار محبت

۴۲ / ۱۷۹