کلامِ داغردیف ل
مجھ سا نہ دے زمانے کو پروردگار دل
مجھ سا نہ دے زمانے کو پروردگار دلآشفتہ دل فریفتہ دل بے قرار دل
ہر بار مانگتی ہیں نیا چشم یار دلاک دل کے کس طرح سے بناؤں ہزار دل
مشہور ہو گئی ہے زیارت شہید کیخوں کشتہ آرزو کا بنا ہے مزار دل
یہ صید گاہ عشق ہے ٹھہرائیے نگاہصیاد مضطرب سے نہ ہوگا شکار دل
طوفان نوح بھی ہو تو مل جائے خاک میںاللہ رے غبار ترا پر غبار دل
پوچھا جو اس نے طالب روز جزا ہے کوننکلا مری زباں سے بے اختیار دل
کرتے ہو عہد وصل تو اتنا رہے خیالپیمان سے زیادہ ہے ناپائیدار دل
تاثیر عشق یہ ہے ترے عہد حسن میںمٹی کا بھی بنائیں تو ہو بے قرار دل
اس کی تلاش ہے کہ نظر آئے آرزوظالم نے روز چاک کئے ہیں ہزار دل
عالم ہوا تمام رہا اس کو شوق حوربرسائے آسمان سے پروردگار دل
پہلے پہل کی چاہ کا کیجے نہ امتحاںآنا تو سیکھ لے ابھی دو چار بار دل
نکلے مری بغل سے وہ ایسے تڑپ کے ساتھیاد آ گیا مجھے وہیں بے اختیار دل
اے عندلیب تجھ کو لگے کب ہوائے عشقکلیوں کی طرح تجھ میں نہ پھوٹے ہزار دل
عاشق ہوئے وہ جیسے عدو پر یہ حال ہےرکھ کہہ کے ہاتھ دیکھتے ہیں بار بار دل
اس نے کہا ہے صبر پڑے گا رقیب کالے اور بے قرار ہوا بے قرار دل
بیتاب ہو کے بزم سے اس کی اٹھا دیاغافل میں ہوں مگر ہے بہت ہوشیار دل
مشہور ہیں سکندر و جم کی نشانیاںاے داغؔ چھوڑ جائیں گے ہم یادگار دل
۶۱ / ۱۷۹