کلامِ داغردیف م
ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم
۱
ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلومکسی کے دل کی حقیقت کسی کو کیا معلوم
۲
یقیں تو یہ ہے وہ خط کا جواب لکھیں گےمگر نوشتۂ قسمت کسی کو کیا معلوم
۳
بظاہر ان کو حیا دار لوگ سمجھے ہیںحیا میں جو ہے شرارت کسی کو کیا معلوم
۴
قدم قدم پہ تمہارے ہمارے دل کی طرحبسی ہوئی ہے قیامت کسی کو کیا معلوم
۵
یہ رنج و عیش ہوئے ہجر و وصل میں ہم کوکہاں ہے دوزخ و جنت کسی کو کیا معلوم
۶
جو سخت بات سنے دل تو ٹوٹ جاتا ہےاس آئینے کی نزاکت کسی کو کیا معلوم
۷
کیا کریں وہ سنانے کو پیار کی باتیںانہیں ہے مجھ سے عداوت کسی کو کیا معلوم
۸
خدا کرے نہ پھنسے دام عشق میں کوئیاٹھائی ہے جو مصیبت کسی کو کیا معلوم
۹
ابھی تو فتنے ہی برپا کئے ہیں عالم میںاٹھائیں گے وہ قیامت کسی کو کیا معلوم
۱۰
جناب داغؔ کے مشرب کو ہم سے تو پوچھوچھپے ہوئے ہیں یہ حضرت کسی کو کیا معلوم
۶۲ / ۱۷۹