کلامِ داغردیف م
رشک سے غیروں کے جی کھوتے ہیں ہم
۱
رشک سے غیروں کے جی کھوتے ہیں ہمکیا بروں کی جان کو روتے ہیں ہم
۲
بے خودانہ اپنی ہشیاری رہیجاگتے ہیں کچھ تو کچھ سوتے ہیں ہم
۳
اپنے گھر رہنے دے کیوں کر حور وشحضرت آدم ہی کے پوتے ہیں ہم
۴
جاں کنی اپنا ہے کام اے کوہ کنعشق میں پتھر نہیں ڈھوتے ہیں ہم
۵
داغؔ ہے کس کو میسر درد عشقرنج ہوتا ہے تو خوش ہوتے ہیں ہم
۶۳ / ۱۷۹