کلامِ داغردیف م

غم سے کہیں نجات ملے چین پائیں ہم

۱

غم سے کہیں نجات ملے چین پائیں ہمدل خون میں نہائے تو گنگا نہائیں ہم

۲

جنت میں جائیں ہم کہ جہنم میں جائیں ہممل جائے تو کہیں نہ کہیں تجھ کو پائیں ہم

۳

جوف فلک میں خاک بھی لذت نہیں رہیجی چاہتا ہے تیری جفائیں اٹھائیں ہم

۴

ڈر ہے نہ بھول جائے وہ سفاک روز حشردنیا میں لکھتے جاتے ہیں اپنی خطائیں ہم

۵

ممکن ہے یہ کہ وعدے پر اپنے وہ آ بھی جائےمشکل یہ ہے کہ آپ میں اس وقت آئیں ہم

۶

ناراض ہو خدا تو کریں بندگی سے خوشمعشوق روٹھ جائے تو کیونکر منائیں ہم

۷

سر دوستوں کا کاٹ کے رکھتے ہیں سامنےغیروں سے پوچھتے ہیں قسم کس کی کھائیں ہم

۸

کتنا ترا مزاج خوشامد پسند ہےکب تک کریں خدا کے لیے التجائیں ہم

۹

لالچ عبث ہے دل کا تمہیں وقت واپسیںیہ مال وہ نہیں کہ جسے چھوڑ جائیں ہم

۱۰

سونپا تمہیں خدا کو چلے ہم تو نامرادکچھ پڑھ کے بخشنا جو کبھی یاد آئیں ہم

۱۱

سوز دروں سے اپنے شرر بن گئے ہیں اشککیوں آہ سرد کو نہ پتنگے لگائیں ہم

۱۲

یہ جان تم نہ لوگے اگر آپ جائے گیاس بے وفا کی خیر کہاں تک منائیں ہم

۱۳

ہمسائے جاگتے رہے نالوں سے رات بھرسوئے ہوئے نصیب کو کیونکر جگائیں ہم

۱۴

جلوہ دکھا رہا ہے وہ آئینۂ جمالآتی ہے ہم کو شرم کہ کیا منہ دکھائیں ہم

۱۵

مانو کہا جفا نہ کرو تم وفا کے بعدایسا نہ ہو کہ پھیر لیں الٹی دعائیں ہم

۱۶

دشمن سے ملتے جلتے ہیں خاطر سے دوستیکیا فائدہ جو دوست کو دشمن بنائیں ہم

۱۷

تو بھولنے کی چیز نہیں خوب یاد رکھاے داغؔ کس طرح تجھے دل سے بھلائیں ہم

۶۴ / ۱۷۹