کلامِ داغردیف م
ڈرتے ہیں چشم و زلف و نگاہ و ادا سے ہم
۱
ڈرتے ہیں چشم و زلف و نگاہ و ادا سے ہمہر دم پناہ مانگتے ہیں ہر بلا سے ہم
۲
معشوق جائے حور ملے مے بجائے آبمحشر میں دو سوال کریں گے خدا سے ہم
۳
گر تو کسی بہانے آ جائے وقت نزعظالم کریں ہزار بہانے قضا سے ہم
۴
گو حال دل چھپاتے ہیں پر اس کو کیا کریںآتے ہیں خودبخود نظر اک مبتلا سے ہم
۵
ناچار اختیار کیا شیوۂ رقیبکچھ بے حیائی خوب ہیں گزرے حیا سے ہم
۶
مانگی نہ ہوگی خضر نے یوں عمر جاوداںکیا اپنی موت مانگتے ہیں التجا سے ہم
۷
دیکھیں تو پہلے کون مٹے اس کی راہ میںبیٹھے ہیں شرط باندھ کے ہر نقش پا سے ہم
۸
مجبور اپنی شیوۂ شرم و حیا سے تمناچار اضطراب دل مبتلا سے ہم
۹
یہ آرزو ہے آنکھ میں سرمہ لگائیں گےاے داغؔ خاک پائے رسول خدا سے ہم
۶۵ / ۱۷۹