کلامِ داغردیف م

محشر میں بھی کسی کے اٹھائیں گے ناز ہم

۱

محشر میں بھی کسی کے اٹھائیں گے ناز ہمایسے نیاز مند ہیں اے بے نیاز ہم

۲

ہوگی فقط شریک دعا ایک بیکسیمیت پر اپنی آپ پڑھیں گے نماز ہم

۳

واعظ یہی نہ کہہ دے کہ پیدا ہی کیوں ہوئےدنیا میں آئیں اور رہیں پاک باز ہم

۴

اس میں بھی کوئی بھید ہے تم جانتے نہیںکہتے ہیں ایک ایک سے کیوں دل کے راز ہم

۵

جب سنتے ہیں کہ آپ پہ دو چار مر گئےدلواتے ہیں رقیبوں کی اپنے نیاز ہم

۶

وہ دن گئے کہ داغؔ تھی ہر دم بتوں کی یادپڑھتے ہیں پانچ وقت کی اب تو نماز ہم

۶۶ / ۱۷۹