کلامِ داغردیف م

چھک گئے ہیں آج اک ساغر سے ہم

۱

چھک گئے ہیں آج اک ساغر سے ہمہاتھ دھو بیٹھے مئے کوثر سے ہم

۲

بت کدہ میں جا کے اس بت کا پتہپوچھتے پھرتے ہیں ہر پتھر سے ہم

۳

قصد صحرا ہے دل ویراں کے ساتھاک بیاباں لے چلے ہیں گھر سے ہم

۴

جب رگ جاں سے کمی کرتا ہے خونچھیڑ دیتے ہیں اسے نشتر سے ہم

۵

کس قدر کٹتی ہے راہ شوق جلدتیز چلتے ہیں ترے خنجر سے ہم

۶

کیا کہیں کس سے کہیں کس کے لیےپھرتے ہیں چاروں طرف مضطر سے ہم

۷

وہ ستم گر روبرو ہوگا تو داغؔکیا کہیں گے داور محشر سے ہم

۶۷ / ۱۷۹