کلامِ داغردیف ن

بات میری کبھی سنی ہی نہیں

۱

بات میری کبھی سنی ہی نہیںجانتے وہ بری بھلی ہی نہیں

۲

دل لگی ان کی دل لگی ہی نہیںرنج بھی ہے فقط ہنسی ہی نہیں

۳

لطف مے تجھ سے کیا کہوں زاہدہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں

۴

اڑ گئی یوں وفا زمانے سےکبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں

۵

جان کیا دوں کہ جانتا ہوں میںتم نے یہ چیز لے کے دی ہی نہیں

۶

ہم تو دشمن کو دوست کر لیتےپر کریں کیا تری خوشی ہی نہیں

۷

ہم تری آرزو پہ جیتے ہیںیہ نہیں ہے تو زندگی ہی نہیں

۸

دل لگی دل لگی نہیں ناصحتیرے دل کو ابھی لگی ہی نہیں

۹

داغؔ کیوں تم کو بے وفا کہتاوہ شکایت کا آدمی ہی نہیں

۶۸ / ۱۷۹