کلامِ داغردیف ن

ان کے اک جاں نثار ہم بھی ہیں

۱

ان کے اک جاں نثار ہم بھی ہیںہیں جہاں سو ہزار ہم بھی ہیں

۲

تم بھی بے چین ہم بھی ہیں بے چینتم بھی ہو بے قرار ہم بھی ہیں

۳

اے فلک کہہ تو کیا ارادہ ہےعیش کے خواست گار ہم بھی ہیں

۴

کھینچ لائے گا جذب دل ان کوہمہ تن انتظار ہم بھی ہیں

۵

بزم دشمن میں لے چلا ہے دلکیسے بے اختیار ہم بھی ہیں

۶

شہر خالی کئے دکاں کیسیایک ہی بادہ خوار ہم بھی ہیں

۷

شرم سمجھے ترے تغافل کوواہ کیا ہوشیار ہم بھی ہیں

۸

ہاتھ ہم سے ملاؤ اے موسیٰعاشق روئے یار ہم بھی ہیں

۹

خواہش بادۂ طہور نہیںکیسے پرہیزگار ہم بھی ہیں

۱۰

تم اگر اپنی گوں کے ہو معشوقاپنے مطلب کے یار ہم بھی ہیں

۱۱

جس نے چاہا پھنسا لیا ہم کودلبروں کے شکار ہم بھی ہیں

۱۲

آئی مے خانے سے یہ کس کی صدالاؤ یاروں کے یار ہم بھی ہیں

۱۳

لے ہی تو لے گی دل نگاہ تریہر طرح ہوشیار ہم بھی ہیں

۱۴

ادھر آ کر بھی فاتحہ پڑھ لوآج زیر مزار ہم بھی ہیں

۱۵

غیر کا حال پوچھئے ہم سےاس کے جلسے کے یار ہم بھی ہیں

۱۶

کون سا دل ہے جس میں داغؔ نہیںعشق میں یادگار ہم بھی ہیں

۶۹ / ۱۷۹