کلامِ داغردیف ن
تیری صورت کو دیکھتا ہوں میں
۱
تیری صورت کو دیکھتا ہوں میںاس کی قدرت کو دیکھتا ہوں میں
۲
جب ہوئی صبح آ گئے ناصحانہیں حضرت کو دیکھتا ہوں میں
۳
وہ مصیبت سنی نہیں جاتیجس مصیبت کو دیکھتا ہوں میں
۴
دیکھنے آئے ہیں جو میری نبضان کی صورت کو دیکھتا ہوں میں
۵
موت مجھ کو دکھائی دیتی ہےجب طبیعت کو دیکھتا ہوں میں
۶
شب فرقت اٹھا اٹھا کر سرصبح عشرت کو دیکھتا ہوں میں
۷
دور بیٹھا ہوا سر محفلرنگ صحبت کو دیکھتا ہوں میں
۸
ہر مصیبت ہے بے مزا شب غمآفت آفت کو دیکھتا ہوں میں
۹
نہ محبت کو جانتے ہو تمنہ مروت کو دیکھتا ہوں میں
۱۰
کوئی دشمن کو یوں نہ دیکھے گاجیسے قسمت کو دیکھتا ہوں میں
۱۱
حشر میں داغؔ کوئی دوست نہیںساری خلقت کو دیکھتا ہوں میں
۷۰ / ۱۷۹