کلامِ داغردیف ن
تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں
تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیںتجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں
ہماری طرف اب وہ کم دیکھتے ہیںوہ نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں
زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیںہمیں جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
پھرے بت کدے سے تو اے اہل کعبہپھر آ کر تمہارے قدم دیکھتے ہیں
ہمیں چشم بینا دکھاتی ہے سب کچھوہ اندھے ہیں جو جام جم دیکھتے ہیں
نہ ایمائے خواہش نہ اظہار مطلبمرے منہ کو اہل کرم دیکھتے ہیں
کبھی توڑتے ہیں وہ خنجر کو اپنےکبھی نبض بسمل میں دم دیکھتے ہیں
غنیمت ہے چشم تغافل بھی ان کیبہت دیکھتے ہیں جو کم دیکھتے ہیں
غرض کیا کہ سمجھیں مرے خط کا مضموںوہ عنوان و طرز رقم دیکھتے ہیں
سلامت رہے دل برا ہے کہ اچھاہزاروں میں یہ ایک دم دیکھتے ہیں
رہا کون محفل میں اب آنے والاوہ چاروں طرف دم بدم دیکھتے ہیں
ادھر شرم حائل ادھر خوف مانعنہ وہ دیکھتے ہیں نہ ہم دیکھتے ہیں
انہیں کیوں نہ ہو دل ربائی سے نفرتکہ ہر دل میں وہ غم الم دیکھتے ہیں
نگہباں سے بھی کیا ہوئی بد گمانیاب اس کو ترے ساتھ کم دیکھتے ہیں
ہمیں داغؔ کیا کم ہے یہ سرفرازیکہ شاہ دکن کے قدم دیکھتے ہیں
۷۱ / ۱۷۹