کلامِ داغردیف ن

جلوے مری نگاہ میں کون و مکاں کے ہیں

۱

جلوے مری نگاہ میں کون و مکاں کے ہیںمجھ سے کہاں چھپیں گے وہ ایسے کہاں کے ہیں

۲

کھلتے نہیں ہیں راز جو سوز نہاں کے ہیںکیا پھوٹنے کے واسطے چھالے زباں کے ہیں

۳

کرتے ہیں قتل وہ طلب مغفرت کے بعدجو تھے دعا کے ہاتھ وہی امتحاں کے ہیں

۴

جس روز کچھ شریک ہوئی میری مشت خاکاس روز سے زمیں پہ ستم آسماں کے ہیں

۵

بازو دکھائے تم نے لگا کر ہزار ہاتھپورے پڑے تو وہ بھی بہت امتحاں کے ہیں

۶

ناصح کے سامنے کبھی سچ بولتا نہیںمیری زباں میں رنگ تمہاری زباں کے ہیں

۷

کیسا جواب حضرت دل دیکھیے ذراپیغام بر کے ہاتھ میں ٹکڑے زباں کے ہیں

۸

کیا اضطراب شوق نے مجھ کو خجل کیاوہ پوچھتے ہیں کہئے ارادے کہاں کے ہیں

۹

عاشق ترے عدم کو گئے کس قدر تباہپوچھا ہر ایک نے یہ مسافر کہاں کے ہیں

۱۰

ہر چند داغؔ ایک ہی عیار ہے مگردشمن بھی تو چھٹے ہوئے سارے جہاں کے ہیں

۷۲ / ۱۷۹