کلامِ داغردیف ن

اس نہیں کا کوئی علاج نہیں

۱

اس نہیں کا کوئی علاج نہیںروز کہتے ہیں آپ آج نہیں

۲

کل جو تھا آج وہ مزاج نہیںاس تلون کا کچھ علاج نہیں

۳

آئنہ دیکھتے ہی اترائےپھر یہ کیا ہے اگر مزاج نہیں

۴

لے کے دل رکھ لو کام آئے گاگو ابھی تم کو احتیاج نہیں

۵

ہو سکیں ہم مزاج داں کیونکرہم کو ملتا ترا مزاج نہیں

۶

چپ لگی لعل جاں فزا کو ترےاس مسیحا کا کچھ علاج نہیں

۷

دل بے مدعا خدا نے دیااب کسی شے کی احتیاج نہیں

۸

کھوٹے داموں میں یہ بھی کیا ٹھہرادرہم داغ کا رواج نہیں

۹

بے نیازی کی شان کہتی ہےبندگی کی کچھ احتیاج نہیں

۱۰

دل لگی کیجئے رقیبوں سےاس طرح کا مرا مزاج نہیں

۱۱

عشق ہے پادشاہ عالم گیرگرچہ ظاہر میں تخت و تاج نہیں

۱۲

درد فرقت کی گو دوا ہے وصالاس کے قابل بھی ہر مزاج نہیں

۱۳

یاس نے کیا بجھا دیا دل کوکہ تڑپ کیسی اختلاج نہیں

۱۴

ہم تو سیرت پسند عاشق ہیںخوب رو کیا جو خوش مزاج نہیں

۱۵

حور سے پوچھتا ہوں جنت میںاس جگہ کیا بتوں کا راج نہیں

۱۶

صبر بھی دل کو داغؔ دے لیں گےابھی کچھ اس کی احتیاج نہیں

۷۳ / ۱۷۹