کلامِ داغردیف ن
اس ادا سے وہ جفا کرتے ہیں
اس ادا سے وہ جفا کرتے ہیںکوئی جانے کہ وفا کرتے ہیں
یوں وفا عہد وفا کرتے ہیںآپ کیا کہتے ہیں کیا کرتے ہیں
ہم کو چھیڑوگے تو پچھتاؤگےہنسنے والوں سے ہنسا کرتے ہیں
نامہ بر تجھ کو سلیقہ ہی نہیںکام باتوں میں بنا کرتے ہیں
چلئے عاشق کا جنازہ اٹھاآپ بیٹھے ہوئے کیا کرتے ہیں
یہ بتاتا نہیں کوئی مجھ کودل جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں
حسن کا حق نہیں رہتا باقیہر ادا میں وہ ادا کرتے ہیں
تیر آخر بدل کافر ہےہم اخیر آج دعا کرتے ہیں
روتے ہیں غیر کا رونا پہروںیہ ہنسی مجھ سے ہنسا کرتے ہیں
اس لیے دل کو لگا رکھا ہےاس میں محبوب رہا کرتے ہیں
تم ملوگے نہ وہاں بھی ہم سےحشر سے پہلے گلہ کرتے ہیں
جھانک کر روزن در سے مجھ کوکیا وہ شوخی سے حیا کرتے ہیں
اس نے احسان جتا کر یہ کہاآپ کس منہ سے گلہ کرتے ہیں
روز لیتے ہیں نیا دل دلبرنہیں معلوم یہ کیا کرتے ہیں
داغؔ تو دیکھ تو کیا ہوتا ہےجبر پر صبر کیا کرتے ہیں
۷۴ / ۱۷۹