کلامِ داغردیف ن
بتان ماہ وش اجڑی ہوئی منزل میں رہتے ہیں
بتان ماہ وش اجڑی ہوئی منزل میں رہتے ہیںکہ جس کی جان جاتی ہے اسی کے دل میں رہتے ہیں
ہزاروں داغ پنہاں عاشقوں کے دل میں رہتے ہیںشرر پتھر کی صورت ان کی آب و گل میں رہتے ہیں
زمیں پر پاؤں نفرت سے نہیں رکھتے پری پیکریہ گویا اس مکاں کی دوسری منزل میں رہتے ہیں
محبت میں مزا ہے چھیڑ کا لیکن مزے کی ہوہزاروں لطف ہر اک شکوۂ باطل میں رہتے ہیں
خدا رکھے سلامت جن کو ان کو موت کب آئےتڑپتے لوٹتے ہم کوچۂ قاتل میں رہتے ہیں
ہزاروں حسرتیں وہ ہیں کہ روکے سے نہیں رکتیںبہت ارمان ایسے ہیں کہ دل کے دل میں رہتے ہیں
یہاں تک تھک گئے ہیں چلتے چلتے تیرے ہاتھوں سےکہ اب چھپ چھپ کے ناوک سینۂ بسمل میں رہتے ہیں
نہ دیکھے ہوں گے رندوں سے بھی تو نے پاک اے زاہدکہ یہ بے داغ مے خانے کی آب و گل میں رہتے ہیں
محیط عشق کی ہر موج طوفاں خیز ایسی ہےوہ ہیں گرداب میں جو دامن ساحل میں رہتے ہیں
خدا رکھے محبت نے کیے آباد دونوں گھرمیں ان کے دل میں رہتا ہوں وہ میرے دل میں رہتے ہیں
جو ہوتی خوبصورت تو نہ چھپتی قیس سے لیلیٰمگر ایسے ہی ویسے پردۂ محمل میں رہتے ہیں
ہمارے سائے سے بچتا ہے ہر اک بزم میں اس کیہمیں دیکھو کہ ہم تنہا بھری محفل میں رہتے ہیں
سراغ مہر و الفت غیر کے دل میں نہ پائیں گےعبث وہ رات دن اس سعی بے حاصل میں رہتے ہیں
بتوں کو محرم اسرار تو نے کیوں کیا یا ربکہ یہ کافر ہر اک خلوت سرائے دل میں رہتے ہیں
فلک دشمن ہوا گردش زدوں کو جب ملی راحتزیادہ راہ سے کھٹکے مجھے منزل میں رہتے ہیں
تن آسانی کہاں تقدیر میں ہم دل گرفتوں کیخدا پر خوب روشن ہے کہ جس مشکل میں رہتے ہیں
۷۵ / ۱۷۹