کلامِ داغردیف ن

بھویں تنتی ہیں خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں

۱

بھویں تنتی ہیں خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیںکسی سے آج بگڑی ہے کہ وہ یوں بن کے بیٹھے ہیں

۲

دلوں پر سیکڑوں سکے ترے جوبن کے بیٹھے ہیںکلیجوں پر ہزاروں تیر اس چتون کے بیٹھے ہیں

۳

الٰہی کیوں نہیں اٹھتی قیامت ماجرا کیا ہےہمارے سامنے پہلو میں وہ دشمن کے بیٹھے ہیں

۴

یہ گستاخی یہ چھیڑ اچھی نہیں ہے اے دل ناداںابھی پھر روٹھ جائیں گے ابھی تو من کے بیٹھے ہیں

۵

اثر ہے جذب الفت میں تو کھنچ کر آ ہی جائیں گےہمیں پروا نہیں ہم سے اگر وہ تن کے بیٹھے ہیں

۶

سبک ہو جائیں گے گر جائیں گے وہ بزم دشمن میںکہ جب تک گھر میں بیٹھے ہیں وہ لاکھوں من کے بیٹھے ہیں

۷

فسوں ہے یا دعا ہے یا معمہ کھل نہیں سکتاوہ کچھ پڑھتے ہوئے آگے مرے مدفن کے بیٹھے ہیں

۸

بہت رویا ہوں میں جب سے یہ میں نے خواب دیکھا ہےکہ آپ آنسو بہاتے سامنے دشمن کے بیٹھے ہیں

۹

کھڑے ہوں زیر طوبیٰ وہ نہ دم لینے کو دم بھر بھیجو حسرت مند تیرے سایۂ دامن کے بیٹھے ہیں

۱۰

تلاش منزل مقصد کی گردش اٹھ نہیں سکتیکمر کھولے ہوئے رستے میں ہم رہزن کے بیٹھے ہیں

۱۱

یہ جوش گریہ تو دیکھو کہ جب فرقت میں رویا ہوںدر و دیوار اک پل میں مرے مدفن کے بیٹھے ہیں

۱۲

نگاہ شوخ و چشم شوق میں در پردہ چھنتی ہےکہ وہ چلمن میں ہیں نزدیک ہم چلمن کے بیٹھے ہیں

۱۳

یہ اٹھنا بیٹھنا محفل میں ان کا رنگ لائے گاقیامت بن کے اٹھیں گے بھبوکا بن کے بیٹھے ہیں

۱۴

کسی کی شامت آئے گی کسی کی جان جائے گیکسی کی تاک میں وہ بام پر بن ٹھن کے بیٹھے ہیں

۱۵

قسم دے کر انہیں یہ پوچھ لو تم رنگ ڈھنگ اس کےتمہاری بزم میں کچھ دوست بھی دشمن کے بیٹھے ہیں

۱۶

کوئی چھینٹا پڑے تو داغؔ کلکتے چلے جائیںعظیم آباد میں ہم منتظر ساون کے بیٹھے ہیں

۷۶ / ۱۷۹