کلامِ داغردیف ن

بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہیں

۱

بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہیںہم بھی دیکھیں تو اسے دیکھ کے کیا کہتے ہیں

۲

جو بھلے ہیں وہ بروں کو بھی بھلا کہتے ہیںنہ برا سنتے ہیں اچھے نہ برا کہتے ہیں

۳

بزم احباب و مے ناب وصال معشوقاب کسی شے میں نہیں جس کو مزہ کہتے ہیں

۴

میں گناہ گار اگر عشق مجازی ہے گناہمیں خطا‌ وار اگر اس کو خطا کہتے ہیں

۵

پہلے تو داغؔ کی تعریف ہوا کرتی تھیاب خدا جانے وہ کیوں اس کو برا کہتے ہیں

۷۷ / ۱۷۹