کلامِ داغردیف ن

جب کہا اور بھی دنیا میں حسیں اچھے ہیں

۱

جب کہا اور بھی دنیا میں حسیں اچھے ہیںکیا ہی جھنجھلا کے وہ بولے کہ ہمیں اچھے ہیں

۲

کس بھروسے یہ کریں تجھ سے وفا کی امیدکون سے ڈھنگ ترے جان حزیں اچھے ہیں

۳

خاک میں آہ ملا کر ہمیں کیا پوچھتے ہوخیر جس طور ہیں ہم خاک نشیں اچھے ہیں

۴

دل میں کیا خاک جگہ دوں ترے ارمانوں کوکہ مکاں ہے یہ خراب اور مکیں اچھے ہیں

۵

مجھ کو کہتے ہیں رقیبوں کی برائی سن کروہ نہیں تم سے برے بلکہ کہیں اچھے ہیں

۶

بت وہ کافر ہیں کہ اے داغؔ خدا ان سے بچائےکون کہتا ہے یہ غارت گر دیں اچھے ہیں

۷۸ / ۱۷۹