کلامِ داغردیف ن
تجھ سے کیا نسبت کہ تھے لیلیٰ کے کالے ہاتھ پاؤں
۱
تجھ سے کیا نسبت کہ تھے لیلی کے کالے ہاتھ پاؤںحق نے تیرے نور کے سانچے میں ڈھالے ہاتھ پاؤں
۲
ہاتھ پکڑے مجھ کو کھینچے پھر سوئے دشت بلااے جنوں اب کر دئے تیرے حوالے ہاتھ پاؤں
۳
خواہ باندھیں خواہ جکڑیں ان کو زنجیروں میں وہہم نے ان زلفوں کے ہاتھوں بیچ ڈالے ہاتھ پاؤں
۴
ہاتھ الجھے جیب سے پھر پاؤں لپٹے خار سےہم نے زنداں سے نکلتے ہی نکالے ہاتھ پاؤں
۵
سر سناں نے سینہ خنجر نے لیا ناوک نے دلہیں یہ تیری نذر اے تیغ جفا لے ہاتھ پاؤں
۶
کر دیا ہے چور ہم کو نشۂ الفت نے داغؔاب بھلا کوئی سنبھلتے ہیں سنبھالے ہاتھ پاؤں
۷۹ / ۱۷۹