کلامِ داغردیف ن
دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریں
۱
دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریںجانے والی چیز کا غم کیا کریں
۲
ہم نے مر کر ہجر میں پائی شفاایسے اچھوں کا وہ ماتم کیا کریں
۳
اپنے ہی غم سے نہیں ملتی نجاتاس بنا پر فکر عالم کیا کریں
۴
ایک ساغر پر ہے اپنی زندگیرفتہ رفتہ اس سے بھی کم کیا کریں
۵
کر چکے سب اپنی اپنی حکمتیںدم نکلتا ہو تو ہمدم کیا کریں
۶
دل نے سیکھا شیوۂ بیگانگیایسے نامحرم کو محرم کیا کریں
۷
معرکہ ہے آج حسن و عشق کادیکھیے وہ کیا کریں ہم کیا کریں
۸
آئینہ ہے اور وہ ہیں دیکھیےفیصلہ دونوں یہ باہم کیا کریں
۹
آدمی ہونا بہت دشوار ہےپھر فرشتے حرص آدم کیا کریں
۱۰
تند خو ہے کب سنے وہ دل کی باتاور بھی برہم کو برہم کیا کریں
۱۱
حیدرآباد اور لنگر یاد ہےاب کے دلی میں محرم کیا کریں
۱۲
کہتے ہیں اہل سفارش مجھ سے داغؔتیری قسمت ہے بری ہم کیا کریں
۸۸ / ۱۷۹